29 اپریل 2013 - 19:30
ولادت حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا

20 جمادی الثانی کو ہجرت سے 8 سال قبل 5 بعثت میں رسول اکرم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی دختر گرامی حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھا کی ولادت باسعادت ہوئی ۔ آپ کو آغاز بچپن سے ہی اعلٰی الہی معارف سے آگاہی حاصل تھی اور رسول اکرم (ص) اور حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا جیسے والدین کے سائے میں پرورش پائی ۔ خاندان وحی میں پرورش کی وجہ سے حضرت فاطمۂ زہرا سلام اللہ علیہا کمال و معنویت کی بلند ترین منزل تک پہنچیں ۔ آپ نے حضرت علی (ع) کے ساتھ جو خود حق و انصاف اور تقوی کے مظہر تھے رشتۂ ازدواج میں منسلک ہونے کے بعد بھی ایک بیوی ، ماں اور ایک ذمہ دار انسان کا گراں قدر کردار ادا کیا ۔ آپ نے حضرت علی (ع) کے گھر میں ایثار و سخاوت ، صبر و تحمل ، قناعت ، عبادت الہی اور ضرورت مندوں کی مدد جیسی صفات کو بہترین انداز میں اجاگر کیا امام حسن (ع) امام حسین (ع) اور حضرت زینب سلام اللہ علیہا جیسی عظیم تاریخ ساز شخصیات نے آپ کی ہی آغو‎ش میں پرورش پائی ۔ آپ (س) سماجی ذمہ داریاں ادا کرنے کے ساتھ ساتھ حق کا دفاع بھی کرتی رہیں ۔ قابل ذکر ہے کہ حضرت فاطمہ زہرا (س) کی ولادت با سعادت کی مناسبت سے آج کے دن کو ایران میں خواتین اور ماؤں کے دن کے طور پر منایا جاتاہے ۔

 20 جمادی الثانی 319 ہجری قمری کو مشہور مسلمان محدّث محمد بن عبدالصّمد بغدادی کا انتقال ہوا۔ انہوں نے مختلف علوم خصوصاً علم حدیث کے حصول کےليے انتھک کوششیں کیں ۔ انہوں نے پیغمبر اکرم صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم اور حضرت علی علیہ السلام سے منقول معتبر احادیث کو جمع کیا ۔ ان کا شمار محدثین کے نزدیک معتبر مآخذ میں ہوتاہے ۔

 20 جمادی الثانی 1320 ہجری قمری کو بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی (رح) ایران کے مرکز میں واقع شہر خمین میں پیدا ہوئے ۔ آپ نے دینی تعلیم کا آغاز بچپن سے ہی کردیا تھا ۔ اور تعلیم کی تکمیل کے لئے قم تشریف لے گئے ۔ وہاں ممتاز اساتذہ سے کسب فیض کیا ۔ آپ علوم اسلامی کے مختلف شعبوں پر عبور ہونے ، بھرپور استعداد ، صلاحیت ، قابلیت ، اعلی انسانی و اسلامی فضائل اور اخلاق حمیدہ کے حامل ہونے کی وجہ سے بہت جلد درجۂ اجتہاد پر فائز ہوئے ۔ آپ فقہ اور فلسفے کے علاوہ عرفان کے بھی استاد تھے ۔ امام خمینی (رح) نے جوانی میں ہی سیاسی سرگرمیوں کا آغاز کردیا تھا لیکن شاہی حکومت کے خلاف آپ کی اصل جد و جہد 1342 ھ ش میں عروج کو پہنچی جس کی وجہ سے امام خمینی (رح) کو شاہی حکومت نے ترکی اور پھر عراق جلاوطن کردیا ۔ آپ نے جلاوطنی کے 14 سال کے زمانے میں شاہی حکومت کی قوم مخالف اور دین مخالف حقیقت کو بے نقاب کیا اور اس کے ساتھ ساتھ ممتاز شاگرد بھی بنائے ۔ امام خمینی (رح) نے ذہنوں کو بیدار کرنے والے پیغامات جاری کرکے اسلامی انقلاب کو کامیابی سے ہمکنار کیا ۔ حضرت امام خمینی (رح) نے ایران میں اسلامی جمہوری ن‍ظام قائم ہونے کے بعد دس سال تک کٹھن حالات میں اسلامی جمہوریہ ایران کی قیادت کی ۔ آپ نے اسلامی حکومت کی تشکیل ، دینی اور روحانی اقدار کی احیا اور استعماری طاقتوں کی تیسری دنیا کے ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرکے آج کے انسان کو ایک نئی راہ دکھائی ۔ امام خمینی (رح) نے اپنے پیچھے گرانقدر علمی تصانیف بھی چھوڑی ہیں جن میں " تحریرُالوسیلہ " ، " اسرارُ الصّلوۃ " ، " ولایتِ فقیہ " ، " مصباحُ الہدایۃ " ، " شرح جنودِ عقل و جہل " ، " آدابُ الصّلوۃ " ، " چہل حدیث " ،" حاشیہ بر شرح فصوصُ الحکم " ، " جہاد اکبر یا مبارزہ با نفس " اور دیوان اشعار قابل ذکر ہیں ۔ اسی طرح امام خمینی (رح) کی تقاریر اور پیغامات کا مجموعہ بھی 21 جلدوں میں صحیفۂ نور کے نام سے شائع ہوا ہے ۔

.....

/169